اک اور نشترِِ غم روح میں اتار دیا
تِرے فراق کا اک اور دن گزار دیا
ابھی مِرے تِرے حالات مختلف بھی نہیں
مجھے غموں نے تجھے زندگی نے مار دیا
اک اک قدم پہ مِرے اس کے درمیاں آنا
زمانے کس نے تجھے اتنا اختیار دیا
میں گیسوؤں کی طرح اس کے دستِ ناز میں ہوں
کبھی بکھیر دیا ہے، کبھی سنوار دیا
کہو تو نخلِ تمنا کو اور کیا سینچوں
کہیں سے شاخ کہیں سے ثمر اتار دیا
عجیب اہلِ محبت کی رسم ہے جعفر
کہ غم اسی نے دیا جس کو ہم نے پیار دیا
جعفر شیرازی
No comments:
Post a Comment