ہم معصوم لوگ ہیں
چھوٹی چھوٹی باتوں پہ خوش ہو لیتے ہیں
اپنے پیچھے جاگیریں نہیں رکھتے نہ ہی اثاثہ جات
اپنے کمرے کی نئی سیٹنگ پہ خوش ہو لیتے ہیں
نہ امیدیں ہم نے پالیں آسمان کو چھوتی
نہ خواب دیکھے انہونے سے
گھر میں گر کچھ اچھا پکے
کھا کے ، خوش ہو لیتے ہیں
نہ ہمارے خواب سجے تھے
بڑے بڑے شاپنگ مالز میں
لنڈے کی اک نئی جرسی پا کے خوش ہو لیتے ہیں
نہ ہم نے دیکھے خواب دنیا کی سیر کے
یا نت نئے ہنگاموں کے
شہر کی شاہراہ پہ موجود
لوگوں کی رونق دیکھ کے خوش ہولیتے ہیں
معمولی سے خواب ہمارے معمولی سی تعبیریں
نہ بھی پورے ہو پائیں تو کسی اور بات پہ خوش ہولیتے ہیں
عذرا مغل
No comments:
Post a Comment