Sunday, 10 January 2021

ہم معصوم لوگ ہیں

 ہم معصوم لوگ ہیں

چھوٹی چھوٹی باتوں پہ خوش ہو لیتے ہیں

اپنے پیچھے جاگیریں نہیں رکھتے نہ ہی اثاثہ جات

اپنے کمرے کی نئی سیٹنگ پہ خوش ہو لیتے ہیں

نہ امیدیں ہم نے پالیں آسمان کو چھوتی

نہ خواب دیکھے انہونے سے

گھر میں گر کچھ اچھا پکے

کھا کے ، خوش ہو لیتے ہیں

نہ ہمارے خواب سجے تھے

بڑے بڑے شاپنگ مالز میں

لنڈے کی اک نئی جرسی پا کے خوش ہو لیتے ہیں

نہ ہم نے دیکھے خواب دنیا کی سیر کے

یا نت نئے ہنگاموں کے

شہر کی شاہراہ پہ موجود

لوگوں کی رونق دیکھ کے خوش ہولیتے ہیں

معمولی سے خواب ہمارے معمولی سی تعبیریں

نہ بھی پورے ہو پائیں تو کسی اور بات پہ خوش ہولیتے ہیں


عذرا مغل

No comments:

Post a Comment