Sunday, 5 September 2021

اور اب باعث تشہیر نہیں ہو سکتا

 اور اب باعثِ تشہیر نہیں ہو سکتا

مجھ سے اب غم میرا تحریر نہیں ہو سکتا

جو بھی چاہے اسے آزاد کیے دیتا ہوں

میں کسی پاؤں کی زنجیر نہیں ہو سکتا

چند سطروں میں جو مرقوم کرے میری حیات

وہ میرا کاتبِ تقدیر نہیں ہو سکتا

میری پرواز میں شامل ہیں دعائیں ماں کی

میں کسی طور زمیں گیر نہیں ہو سکتا

شمس تاحشر بھی لکھتا ہی رہے گر غزلیں

تُو کبھی میر تقی میر نہیں ہو سکتا


شمس بلتستانی

No comments:

Post a Comment