یقیں بھی ہو تو گماں کے قریب ہوتی ہیں
تمہاری باتیں بھی اتنی عجیب ہوتی ہیں
غمِ حیات کی سختی پہ رنج مت کرنا
دکھوں کے بعد ہی خوشیاں نصیب ہوتی ہیں
تھکا دیا ہے مجھے ہجر کی مسافت نے
شبِ وصال میں نیندیں رقیب ہوتی ہیں
لٹائیں پیار کے دو بول پر متاعِ دل
یہ لڑکیاں بھی عجیب و غریب ہوتی ہیں
جہانگیر معید
No comments:
Post a Comment