Wednesday, 16 June 2021

یقیں بھی ہو تو گماں کے قریب ہوتی ہیں

 یقیں بھی ہو تو گماں کے قریب ہوتی ہیں

تمہاری باتیں بھی اتنی عجیب ہوتی ہیں

غمِ حیات کی سختی پہ رنج مت کرنا

دکھوں کے بعد ہی خوشیاں نصیب ہوتی ہیں

تھکا دیا ہے مجھے ہجر کی مسافت نے

شبِ وصال میں نیندیں رقیب ہوتی ہیں

لٹائیں پیار کے دو بول پر متاعِ دل

یہ لڑکیاں بھی عجیب و غریب ہوتی ہیں


جہانگیر معید

No comments:

Post a Comment