چند لمحوں کی بات کہاں افسانہ ہوتا ہے
دل والوں کی راہ میں ایک زمانہ ہوتا ہے
جن کے پیار میں پاگل ہوں ہم رُوٹھ بھی جائیں ہم جن سے
ان کی خاطر چھوڑ انا پھر آنا ہوتا ہے
اک اُمید لیے سارا دن بوجھ جو ڈھوتے رہتے ہیں
لوگ وہ جن کا شام ڈھلے گھر جانا ہوتا ہے
دنیا سے تو نِبھ جاتی ہے جیسے تیسے بھی لیکن
سب سے مشکل اپنا ساتھ نِبھانا ہوتا ہے
اُلفت کا دم بھرنے والو یہ بھی کرنا ہوتا ہے
اونچی نیچی ذات کا فرق مٹانا ہوتا ہے
آئرین فرحت
No comments:
Post a Comment