کہانی اس لیے آگے نہ بڑھ سکی میری
میں زندگی کا مخالف تھا، زندگی میری
جڑا ہوا ہے مِرا وقت تیرے وقت کے ساتھ
بندھی ہوئی ہے تِرے ہاتھ پر گھڑی میری
نظر پڑی کسی تصویر پر تو یاد آیا
بہت عزیز تھی اک شخص کو ہنسی میری
تمہارے بعد مِرے ساتھ کون بیٹھے گا
نہ جانے کون کرے گا برابری میری
بہار نے اسے پھولوں کے ہار پہنائے
خزاں نے یاد دلائی اسے کمی میری
عابد ملک
No comments:
Post a Comment