موسمِ گُل کی حقیقت کا پتا دیتی ہے
کچھ نہ کچھ راز تو غنچے کو صبا دیتی ہے
تیری خاموش نگاہوں کی فسوں کاری بھی
تیرا احوالِ غمِ ہجر سنا دیتی ہے
ہم تجھے بھول نہ پائے ہیں مگر کیا کہیے
زندگی وقت کی تقسیم سکھا دیتی ہے
تیری یادوں کے شبستان میں تنہائی بھی
کتنے تارے میرے آنچل میں سجا دیتی ہے
اس زمانے سے رہ و رسم کی رغبت اکثر
عمر بھر خود سے بچھڑنے کی سزا دیتی ہے
ایک ہم ہیں کہ کناروں سے پھسل جاتے ہیں
ایک وہ ہیں کہ جنہیں موج بچا دیتی ہے
اے مِرے حالِ پریشان سے غافل سُن لے
میری بے چارگی پتھر کو رُلا دیتی ہے
زریں منور
No comments:
Post a Comment