کلی دل کی اچانک کھِل گئی ہے
کوئی کھوئی ہوئی شے مل گئی ہے
یہ کس انداز سے دیکھا ہے تُو نے
زمیں پاؤں تلے سے ہِل گئی ہے
میں اس کی ہر ادا پر مر مٹا ہوں
لگائے گال پر جو تِل گئی ہے
یہ کس نے چوڑیاں پہنائیں آ کر
تِری ساری کلائی چِھل گئی ہے
کہاں اب پھول سرسوں کے کھلیں گے
کہاں اب وہ ہوائے دل گئی ہے
حسن اک شوخ کی خوشبو کی صورت
ہمیں دولت جہاں کی مل گئی ہے
حسن رضوی
No comments:
Post a Comment