Friday, 20 November 2020

ملی ہے کیسے گناہوں کی یہ سزا مجھ کو

 ملی ہے کیسے گناہوں کی یہ سزا مجھ کو

ڈراتا رہتا ہے اپنا ہی آئینہ مجھ کو

میں کس فسانے کا حصہ ہوں کہہ نہیں سکتا

وجود اپنا بھی لگتا ہے واقعہ مجھ کو

اب آسماں کی چلو حد تلاش کی جائے

بلا رہا ہے ستاروں کا قافلہ مجھ کو

میں کائنات پہ اپنی نگاہ ڈالتا ہوں

ترے خیال کی ملتی ہے جب ضیا مجھ کو

سلام کرتا ہوں رعنائئ حیات تجھے

اب اور کوئی تماشا نہیں دکھا مجھ کو

تری خموشی میں مضمر ہے میرا راز سخن

کہ بے زبان نہ کر دے تری صدا مجھ کو

وہی عظیم ہے جو بانٹتا ہو درد وجود

اسی کے وصل کا راشد ہے آسرا مجھ کو


راشد طراز

No comments:

Post a Comment