Saturday, 11 September 2021

نہ جانے کب سے یونہی مرکز نظر ہے مرا

 نہ جانے کب سے یونہی مرکزِ نظر ہے مِرا

یہ زندگی کا معمہ کہ دردِ سر ہے مرا

رواں دواں ہے بصد شوق اُس کے گھر کی طرف

یہ ابر پارہ نہیں مرغِ نامہ بر ہے مِرا

یہ آب و گِل بھی مِرے قافلے میں شامل ہیں

کہ دشت ہی نہیں دریا بھی ہمسفر ہے مرا

یہ میرے خواب یہ میرے خزاں رسیدہ خواب

یہی کمائی ہے میری یہی ہُنر ہے مرا

یہ لفظ جن میں لہو کی کشید شامل ہے

یہ صرف لفظ نہیں ہیں یہ سیم و زر ہے مرا

کوئی گلے سے لگائے، کوئی تسلی دے

کہ مجھ سے بڑھ کے شکستہ تو نوحہ گر ہے مرا

یہیں سے پیار کی خوشبو مجھے بلاتی ہے

ہزار کہنہ و ویراں سہی یہ گھر ہے مرا


عباس رضوی

No comments:

Post a Comment