Saturday, 11 September 2021

کتنا لمبا ترا سفر دریا

 کتنا لمبا تِرا سفر دریا 

اس کو کر تھوڑا مختصر دریا 

اس زمیں پر ہے بے گھری قسمت 

مر کے بن جائے اپنا گھر دریا 

مل گیا جا کے اب سمندر سے 

واہ، تُو ہو گیا امر دریا 

باندھ کر بندھ تجھ کو روک لیا 

معرکہ ہو گیا ہے سر دریا 

بیچ اپنے جو ہو گئی حائل 

اس بلندی سے اب اتر دریا 

تیرا سیلاب سنگدل ہے بہت 

اس گھمنڈی کے پر کتر دریا 

کچھ نشیب و فراز لازم ہیں 

سیدھے سیدھے نہ کر سفر دریا 

چشمِ عاقب میں آ کے ٹھہر ذرا 

یوں نہ پھر اب بھی در بدر دریا 


حسنین عاقب

No comments:

Post a Comment