باہر حصارِ ذات کے ہر سو اجال ہے
سینے میں قید غم ہے طبیعت نڈھال ہے
کیسے کروں میں جنگ محاذِ حیات پر
جب ساتھ حوصلوں کا نہ خنجر نہ ڈھال ہے
جیسے سمٹ گئی ہو اسی رخ پہ کائنات
میری نظر میں اس کا مکمل جمال ہے
کرتی رہی میں اپنی ہی نظروں کا اعتبار
"مجھ کو خبر نہیں تھی کہ شیشے میں بال ہے"
مشروبِ خو پلا ہی دو تعویذ گھول کر
نظروں سے اب تمہاری مِرا ارتحال ہے
زارا قاسمی
No comments:
Post a Comment