پیار پانے میں وقت لگتا ہے
دل چرانے میں وقت لگتا ہے
لاکھ اڑنے کو آسماں ہو مگر
پر چلانے میں وقت لگتا ہے
ان پرندوں کو غور سے دیکھو
گھر سجانے میں وقت لگتا ہے
یاد کے واسطے تو البم ہے
بھول جانے میں وقت لگتا ہے
پتھروں کو بھی پوجتے رہیے
بت بنانے میں وقت لگتا ہے
مسکراتے رہو صدا پیوش
رونے گانے میں وقت لگتا ہے
پیوش اوستھی
No comments:
Post a Comment