Saturday, 11 September 2021

جانا کہاں ہے اور کہاں جا رہے ہیں ہم

جانا کہاں ہے اور کہاں جا رہے ہیں ہم

اپنوں کی رہنمائی سے گھبرا رہے ہیں ہم

تم نے تو اک نگاہ اٹھائی ہے اس طرف

سو سو امیدیں باندھ کے اِترا رہے ہیں ہم

ناکام ہو کے اپنی صدا لوٹ آئے گی

یہ جان کر بھی دشت میں چلا رہے ہیں ہم

سب اپنی اپنی راہ پر آگے نکل گئے

اب کس کا انتظار کیۓ جا رہے ہیں ہم

نہ جانے کس کی یاد نے لی دل میں گُدگدی

آئینہ دیکھ دیکھ کے شرما رہے ہیں ہم

دنیا کے کاروبار سے مطلب نہیں مجید

دل کو خیال یار سے بہلا رہے ہیں ہم


عبدالمجید خان

No comments:

Post a Comment