جانا کہاں ہے اور کہاں جا رہے ہیں ہم
اپنوں کی رہنمائی سے گھبرا رہے ہیں ہم
تم نے تو اک نگاہ اٹھائی ہے اس طرف
سو سو امیدیں باندھ کے اِترا رہے ہیں ہم
ناکام ہو کے اپنی صدا لوٹ آئے گی
یہ جان کر بھی دشت میں چلا رہے ہیں ہم
سب اپنی اپنی راہ پر آگے نکل گئے
اب کس کا انتظار کیۓ جا رہے ہیں ہم
نہ جانے کس کی یاد نے لی دل میں گُدگدی
آئینہ دیکھ دیکھ کے شرما رہے ہیں ہم
دنیا کے کاروبار سے مطلب نہیں مجید
دل کو خیال یار سے بہلا رہے ہیں ہم
عبدالمجید خان
No comments:
Post a Comment