Saturday, 11 September 2021

غبار اڑتا ہوا دل کے خاکدان میں ہے

غبار اڑتا ہوا دل کے خاکدان میں ہے

کسی کی یاد کا ملبہ پڑا مکان میں ہے

مجال کب ہے سمندر کی راستہ روکے

ہمارے عزم کا طوفان بادبان میں ہے

کہو نہ ڈھونڈیں خرد والے آشیانے میں

مِرے جنوں کا پرندہ ابھی اڑان میں ہے

نہیں پگھلتے اگر سنگ تیری باتوں سے

کوئی تو نقص یقیناً تِری زبان میں ہے

بہا کے لے گیا سیلاب فصل خوابوں کی

کسان بیٹھا ہوا نیند کے مچان میں ہے

بھٹک رہا ہے کہاں دھوپ کے جزیرے میں

تِری جگہ مِری پلکوں کے سائبان میں ہے

سبھی جواب مِرے، بن گئے سوال اشہر

یہ زندگی بھی مِری کیسے امتحان میں ہے


نوشاد اشہر اعظمی

No comments:

Post a Comment