Saturday, 11 September 2021

جیسے حالات میں تو تھا انہی حالات میں ہوں

 جیسے حالات میں تو تھا، انہی حالات میں ہوں

میں مکافات کے قابل تھا، مکافات میں ہوں

شاخسانہ مِرے اعمال کا دیکھو لوگو

نام شاہد ہے مگر پھر بھی حجابات میں ہوں

اب میں ہنگامۂ دنیا سے الگ رہتا ہوں

شہر میں ڈھونڈنے والو میں مضافات میں ہوں

تجھ کو سر کرنے میں ناکام رہا ہوں، ورنہ

میں تو مشہور ہی تسخیرِ مہمات میں ہوں

تُو کہاں ڈھونڈنے چل نکلا ہے بستی بستی

میں تِری ذات کا حصہ تھا، تِری ذات میں ہوں

میرے خوابوں میں بھی کچھ دن سے ہے آمد تیری

میں بھی کچھ دن سے تِرے لطف و عنایات میں ہوں

کسی دشمن کے نشانے پہ نہیں آتا، مگر

تیر کھا سکتا ہوں یاروں کی اگر گھات میں ہوں

میں کرامات کا قائل نہیں پھر بھی اب تک

اک کرامت کے سبب عہدِ کرامات میں ہوں

سب تِرے نقشِ کفِ پا کا ہے صدقہ آقا

یہ جو مشہور میں اب ارض و سماوات میں ہوں

صبحِ نو جون مجھے بھولی نہیں ہے شاہد

میں ابھی تک اسی منظر کے طلسمات میں ہوں


شاہد اقبال

No comments:

Post a Comment