Saturday, 11 September 2021

ہر کوئی ہے شکار الجمن کا

 جس سے ملے وہ خود میں الجھا ہے

ہر کوئی ہے شکار الجمن کا

 تھی میسر زمانے بھر کی خوشی

کیا زمانہ تھا ہائے بچن کا

ان کو جی بھر کے دیکھ لیتے ہیں

جب خیال آئے سیر گلشن کا

آج پھر ان کی یاد آئے گی

کھول رکھا ہے در مِرے من کا

اس کو سیرت سے کیا غرض کوئی

جو طلب گار ہو فقط دھن کا


اشفاق انصاری

No comments:

Post a Comment