جس سے ملے وہ خود میں الجھا ہے
ہر کوئی ہے شکار الجمن کا
تھی میسر زمانے بھر کی خوشی
کیا زمانہ تھا ہائے بچن کا
ان کو جی بھر کے دیکھ لیتے ہیں
جب خیال آئے سیر گلشن کا
آج پھر ان کی یاد آئے گی
کھول رکھا ہے در مِرے من کا
اس کو سیرت سے کیا غرض کوئی
جو طلب گار ہو فقط دھن کا
اشفاق انصاری
No comments:
Post a Comment