Saturday, 15 May 2021

تعبیر کو ترسے ہوئے خوابوں کی زباں ہیں

 تعبیر کو ترسے ہوئے خوابوں کی زباں ہیں

تصویر کے ہونٹوں پہ جو بوسوں کے نشاں ہیں

آنکھوں میں تر و تازہ ہیں جس عہد کے منظر

ہم لوگ اسی عہدِ گزشتہ میں جواں ہیں

نیلام ہمارا بھی اسی شرط پہ ہو گا

ہم رونقِ بازار ہیں جیسے ہیں، جہاں ہیں

دل تھا کہ کسی ساعت پر خوں میں ہوا سرد

آنکھیں ہیں کہ اب تک تِری جانب نگراں ہیں

دیوار پہ لکھا ہے کہ اب صبح نہ ہو گی

اور سایۂ دیوار میں ہم رقص کناں ہیں


عباس رضوی

No comments:

Post a Comment