خیالِ یار کا جلوہ یہاں بھی تھا وہاں بھی تھا
زمیں پر پاؤں تھے میرے نظر میں آسماں بھی تھا
دِیے روشن تھے ہر جانب، اندھیرا تھا مگر دل میں
بہت تنہا تھا میں لیکن شریکِ کارواں بھی تھا
چُنے تنکے بہت میں نے، بنایا آشیاں اپنا
ازل سے اک مسافر ہوں مجھے اس کا گماں بھی تھا
ادھر جانا بھی تھا لازم، ادھر مجبور تھی سوہنی
گھڑا کچا تھا ہاتھوں میں ادھر دریا جواں بھی تھا
سبھی شامل تھے یارو یوں تو گلشن کی تباہی میں
اب اتنا صاف کیا کہئے کہ ان میں باغباں بھی تھا
مِرے ہر زخم پر اک داستاں تھی اس کے ظلموں کی
مِرے خوں بار دل پر اس کے ہاتھوں کا نشاں بھی تھا
مُکرتا تھا وہ اپنے تیر سے تو اک طرف عازم
ادھر تھامے ہوئے اک ہاتھ میں ظالم کماں بھی تھا
عازم کوہلی
No comments:
Post a Comment