خواب اتنے بھی پُر اسرار نہیں ہوتے تھے
ہاں مگر، ہم کبھی بیدار نہیں ہوتے تھے
کیسی موجیں تھیں مجھے کھینچ کے لے جاتی تھیں
کیسے دریا تھے، کبھی پار نہیں ہوتے تھے
حاکمِ وقت! تِری بات کے مُنکر تھے کئی
سبھی مجرم تو گُنہ گار نہیں ہوتے تھے
اپنے ہاتھوں سے بناتا تھا کئی سورج میں
جس جگہ دُھوپ کے آثار نہیں ہوتے تھے
اب وہ پہلے سی مروت بھی کہاں باقی ہے
لوگ اتنے بھی ریاکار نہیں ہوتے تھے
ایسی مٹی میں نمو پائی ہے ہم نے تو سہیل
پیڑ اُگتے تھے، ثمر بار نہیں ہوتے تھے
سہیل رائے
No comments:
Post a Comment