Wednesday, 22 December 2021

نئی نسلوں میں کوئی تازہ کہانی ہو گی

 نئی نسلوں میں کوئی تازہ کہانی ہو گی

یہ محبت ہے، محبت نہ پُرانی ہو گی

یہ گُلابوں بھرے تختے ہیں تمہارے رستے

تم جہاں ہو گی وہاں رات کی رانی ہو گی

آج کے دن تو مناسب ہی نہیں سُرخ لباس

تُو جو آیا تو تجھے صلح جتانی ہو گی

جنتی لوگوں کے ساماں کی تلاشی کیسی

کیا محبت بھی یہیں چھوڑ کے جانی ہو گی

جو منافق ہیں وہ دہلیز سے باہر ٹھہریں

دوست آئیں گے تبھی شام سہانی ہو گی


احمد عطاء اللہ

No comments:

Post a Comment