Wednesday, 22 December 2021

ڈھونڈنے جو نکلے خود کو سر راہ بدنام ہوئے

 ڈھونڈنے جو نکلے خود کو

سرِ راہ بدنام ہوئے

خود میں کہیں پیوست تھا

وجود میرا گمنام تھا

میں جسے بھی سمجھتا گیا اپنا

وہ میرا کہاں اپنا تھا

پایا اسے مانا اسے منزل

جانا جو اسے وہ بھی میرا کہاں اپنا تھا

اِختتام جو ہوا میرا

خود کی تلاش میں

خود کو پایا اپنا

میں ہی تو اپنا تھا


عندلیب سحرش

No comments:

Post a Comment