Wednesday, 22 December 2021

جیوتشی دن مہینوں کا قصہ سنو

 جیوتشی دن مہینوں کا قصہ سنو

جب گھروں سے نکلتی ہوئی لڑکیاں 

اپنے گھر جائیں گی

اپنے رستے کی ہو جائیں گی

اور تہمینۂ بے خبر، ہر گلی کی خبر

ہر گلی اک نئے گھر پہ جا کر اچٹ جائے گی

اے میری روح کے بادباں

دُکھ کُھلے پانیوں کا سفر عمر بھر

جیوتشی دن مہینوں کا قصہ سنو

جیوتشی روز ہر روز 

سورج کھلے پانیوں سے نکالا گیا

روز سورج کھلے پانیوں میں اتارا گیا

جیوتشی دن مہینوں کی وحشت سے آگاہ میں

جیوتشی اس اذیت سے آگاہ میں

جیوتشی میرے ہونے کا قصہ سنو

جیوتشی سانپ آنکھوں نے دیکھا تو میں سو گیا

مور پاؤں نے دیکھا تو میں سو گیا

جیوتشی میرے سونے کا قصہ سنو

جیوتشی میری آنکھوں میں 

تہمینۂ بے خبر کے لیے ان گنت خواب ہیں

خواب وحشت کے آداب ہیں

صبح سورج کا فرمان ہے

اور سورج کھلے پانیوں میں اتارا گیا


انور خالد

No comments:

Post a Comment