Wednesday, 22 December 2021

غم دنیا کو ترے غم کا بدل کہتے ہوئے

 غمِ دنیا کو تِرے غم کا بدل کہتے ہوئے

رو پڑا آج میں کانٹوں کو کنول کہتے ہوئے

بس سہولت سی ہے اک کام چلانے کے لیے

خاک ہم سمجھیں ابد اور ازل کہتے ہوئے

رفتگاں، دامنِ دل کھینچتے رہتے ہیں مِرا

وقفۂ نقل مکانی کو اجل کہتے ہوئے

زیست کے کتنے تقاضوں کو فراموش کیا

سب مسائل کا تِری دید کو حل کہتے ہوئے

میں تو الہام کا ہونے لگا قائل جاذب

خود فراموشی کے عالم میں غزل کہتے ہوئے


اکرم جاذب

No comments:

Post a Comment