سُلگتی یاد جلائے کسی دسمبر کی
ہوائے سرد بھی شعلہ بنی دسمبر کی
تخیلات کے پنچھی فضا میں اڑنے لگے
مجھے بھی اچھی لگی شاعری دسمبر کی
گُلاب رُت کے مناظر نظر میں پھرتے رہے
اداس کرتی رہی بے کلی دسمبر کی
اداس کمرہ، تِری یاد، اور تنہائی
ہے شام جیسی یہاں صبح بھی دسمبر کی
مِرے مشام میں مانوس سی مہک اتری
بہار جیسی لگی دل کشی دسمبر کی
ہے بے یقینی کا رنگ اس کی روشن آنکھوں میں
کہ دھوپ دھند میں لپٹی ہوئی دسمبر کی
تُو عنبرین بھرے ٹھنڈی آہیں جس کے لیے
اسے تو یاد نہ آئی کبھی دسمبر کی
عنبرین خان
No comments:
Post a Comment