خود کلامی میں نیا رنگ بھی ڈالا جائے
اب کسی طور مجھے خود سے نکالا جائے
پہلے پتوں میں مِرا ذکر تو شامل کر ناں
پھر کہیں سبز کہیں زرد حوالہ جائے
میری قسمت میں کوئی ہار تو لکھی ہی نہیں
اب ذرا سوچ کے سِکہ بھی اُچھالا جائے
رونے والوں کو بتاؤ کہ حقیقت کیا ہے
ہنسنے والوں کو ذرا رنج سے ٹالا جائے
میں اگر دھوپ کی آنکھوں سے نکل کر آؤں
پھر نہ سورج مِرے ماتھے پہ اُچھالا جائے
اپنے اندر ہی کہیں بانٹ لیا ہے تجھ کو
کیوں کسی سمت تِرے جسم کا ہالہ جائے
میں تو کردار نبھانے کے لیے آیا ہوں
اتنی جلدی نہ کہانی سے نکالا جائے
اے مِرے دوست محبت کی طرفداری میں
جتنا ممکن ہے مِرا نام اٗچھالا جائے
میں ہمیشہ ہی تِرا وِرد کیا کرتا ہوں
مِرے بچوں کو تِرے نام سے پالا جائے
اس کی آنکھوں نے مِرے ہوش اٗڑائے ہیں سہیل
اب اسی زُلف کے مرہم سے سنبھالا جائے
سہیل رائے
No comments:
Post a Comment