خوشی کا لمحہ اگر کوئی آیا کرتا تھا
میں سب سے پہلے تِرے پاس جایا کرتا تھا
کسی کی یاد کے آنسو تھے پھول کی مانند
جنہیں میں خشک زمیں پر بہایا کرتا تھا
اُداس لوگوں میں کرتا تھا زندگی تقسیم
میں مسکراہٹیں چہروں پہ لایا کرتا تھا
سمجھ سکا ہی نہیں میں تِری جدائی کو
تِرے غموں سے میں کمرہ سجایا کرتا تھا
گھٹن کے مارے مِرا دم نکلنے لگتا تھا
تو میں خیال کے پنچھی اُڑایا کرتا تھا
بہت سے لوگ مِرے آسرے پہ رہتے تھے
میں ان کا بوجھ اکیلا اُٹھایا کرتا تھا
میں بار بار دِیا اس لیے بُجھاتا تھا
کہ اُس کی شکل دُھویں سے بنایا کرتا تھا
میں تیز دھوپ میں جاتا تھا ڈھونڈنے اُس کو
کوئی پرندہ مِرے سر پہ سایا کرتا تھا
بلا جواز تعلق کو توڑ دیتا تھا
کبھی وہ یوں بھی مجھے آزمایا کرتا تھا
خالد کھوکھر
No comments:
Post a Comment