Tuesday, 22 March 2022

صبح کی پہلی کرن روز یہی پوچھتی ہے

 صبح کی پہلی کرن روز یہی پوچھتی ہے

کیا شب ہجرِ تِرا حال کبھی پوچھتی ہے

جانے میں کتنے زمانوں سے گزر آیا ہوں

وقت اب مجھ سے یہ کمرے کی گھڑی پوچھتی ہے

وہی چکر ہے شب وروز کا پاؤں میں مِرے

زندگی مجھ سے کوئی بات نئی پوچھتی ہے

کیا یہاں کوئی نہیں پار اترنے والا

خالی ناؤ سے یہی بات ندی پوچھتی ہے

کیوں تِرے میز پہ رکھا ہوا کپ ہے چپ چاپ

کس کے بارے میں یہ افسردہ دلی پوچھتی ہے

ایک چہرہ مِری آنکھوں کو لیے پھرتا ہے

ایک تصویر تِرے گھر کی گلی پوچھتی ہے

اب سرِ بام وہ مہ تاب نہیں آتا کیا

میری آنکھوں سے مِری شب کی نمی پوچھتی ہے

یہ مِرے دل کی اداسی تِرے بارے میں سہیل

سادھ لیتی ہے کبھی چپ تو کبھی پوچھتی ہے


سہیل رائے

No comments:

Post a Comment