صبح کی پہلی کرن روز یہی پوچھتی ہے
کیا شب ہجرِ تِرا حال کبھی پوچھتی ہے
جانے میں کتنے زمانوں سے گزر آیا ہوں
وقت اب مجھ سے یہ کمرے کی گھڑی پوچھتی ہے
وہی چکر ہے شب وروز کا پاؤں میں مِرے
زندگی مجھ سے کوئی بات نئی پوچھتی ہے
کیا یہاں کوئی نہیں پار اترنے والا
خالی ناؤ سے یہی بات ندی پوچھتی ہے
کیوں تِرے میز پہ رکھا ہوا کپ ہے چپ چاپ
کس کے بارے میں یہ افسردہ دلی پوچھتی ہے
ایک چہرہ مِری آنکھوں کو لیے پھرتا ہے
ایک تصویر تِرے گھر کی گلی پوچھتی ہے
اب سرِ بام وہ مہ تاب نہیں آتا کیا
میری آنکھوں سے مِری شب کی نمی پوچھتی ہے
یہ مِرے دل کی اداسی تِرے بارے میں سہیل
سادھ لیتی ہے کبھی چپ تو کبھی پوچھتی ہے
سہیل رائے
No comments:
Post a Comment