Thursday, 19 November 2020

عذاب ہمسفری سے گریز تھا مجھ کو

 عذاب ہمسفری سے گریز تھا مجھ کو

پکارتا رہا اک ایک قافلہ مجھ کو

میں اپنی لوٹتی آواز کے حصار میں تھا

وہ لمحہ جب تری آواز نے چھوا مجھ کو

یہ کس نے چھین لیے مجھ سے خوشبوؤں کے مکاں

یہ کون دشت کی دیوار کر گیا مجھ کو

اجالتی نہیں اب مجھ کو کوئی تاریکی

سنوارتا نہیں اب کوئی حادثہ مجھ کو

بجھا بجھا سر محراب دور بیٹھا تھا

کوئی چراغ سمجھ کر جلا گیا مجھ کو

میں کیسے اپنے بکھرنے کا تجھ کو دوں الزام

زمانہ خود ہی بکھرتا ہوا ملا مجھ کو


انور صدیقی

No comments:

Post a Comment