مانا کہ محبت میں خسارا بھی بہت ہے
لیکن مرے دل کو یہ گوارا بھی بہت ہے
جاناں! یہ ترا حسن تو پہلے سے تھا، لیکن
اس کو مری چاہت نے نکھارا بھی بہت ہے
مجھ کو یوں بلانے کی بھی حاجت نہیں ہمدم
میرے لیے نظروں کا اشارا بھی بہت ہے
میں تیری محبت میں جو بگڑا ہوں تو کیا غم
مجھ کو تری الفت نے سنوارا بھی بہت ہے
تیرے کسی وعدے میں صداقت نہیں لیکن
اپنا ترے وعدوں پہ گزارا بھی بہت ہے
مجھ کو کسی تکیے کی ضرورت نہیں یارو
میرے لیے ساقی کا سہارا بھی بہت ہے
تم کس لیے خائف ہو ذکی اپنے عدو سے
اس شہر میں چرچا تو تمہارا بھی بہت ہے
ذوالفقار ذکی
No comments:
Post a Comment