ہے یہاں نام عشق کا لینا
اپنے پیچھے بلا لگا لینا
نامۂ شوق اس کو شوق سے لکھ
غیر کو بھی مگر دکھا لینا
وصل کی شب نہ چھیڑ قصۂ غم
یہ کسی اور دن سنا لینا
ہو اِدھر بھی کبھی نگاہِ کرم
ہم غریبوں کی بھی دعا لینا
غیر سے دوستی کرو لیکن
پہلے کچھ روز آزما لینا
مولانا محمد علی جوہر
No comments:
Post a Comment