Wednesday, 18 November 2020

ہے یہاں نام عشق کا لینا

 ہے یہاں نام عشق کا لینا

اپنے پیچھے بلا لگا لینا

نامۂ شوق اس کو شوق سے لکھ

غیر کو بھی مگر دکھا لینا

وصل کی شب نہ چھیڑ قصۂ غم

یہ کسی اور دن سنا لینا

ہو اِدھر بھی کبھی نگاہِ کرم

ہم غریبوں کی بھی دعا لینا

غیر سے دوستی کرو لیکن

پہلے کچھ روز آزما لینا


مولانا محمد علی جوہر

No comments:

Post a Comment