وہ شخص کہ جو مجھ کو ستاتا بھی بہت ہے
اور اس سے مرا پیار کا ناتا بھی بہت ہے
خوبی میں بھی وہ خوب، خرابی میں بھی پورا
احسان بھی کرتا ہے، جتاتا بھی بہت ہے
وہ آنکھ بتا دیتی ہے اس دل کی قیامت
ورنہ تو وہ ہر غم کو چھپاتا بھی بہت ہے
کہتا ہے کہ اب کوئی تعلق نہیں مجھ سے
ملنے کو مرے پاس وہ آتا بھی بہت ہے
میں اس سے نہ ملنے کی قسم کھاتا ہوں انور
اور یہ بھی حقیقت کہ وہ بھاتا بھی بہت ہے
انور گل
No comments:
Post a Comment