Wednesday, 18 November 2020

کھل کے برسنا اور برس کر پھر کھل جانا دیکھا ہے

 کھل کے برسنا اور برس کر پھر کھل جانا دیکھا ہے

ہم سے پوچھو ان آنکھوں کا ایک زمانہ دیکھا ہے

تم نے کیسے مان لیا وہ تھک کر بیٹھ گیا ہو گا

تم نے تو خود اپنی آنکھوں سے وہ دیوانا دیکھا ہے

منزل تک پہنچیں کہ نہ پہنچیں راہ مگر اپنی ہو گی

تُو رہنے دے واعظ! تیرا راہ بتانا دیکھا ہے

دھول کا اک ذرہ نہ اڑے آواز کرے پرچھائیں بھی

موت بھی آ کر مرتی نہیں تھی وہ ویرانہ دیکھا ہے

گلشن سے ہم سیکھ نہ پائے وقتی خوشیوں کو جینا

جبکہ ہم نے فصل گل کا آنا جانا دیکھا ہے

دل تو سادہ ہے تیری ہر بات کو سچا مانتا ہے

عقل نے باتیں کرتے تیرا آنکھ چرانا دیکھا ہے

لفظ دوا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ پرہیز بھی ہے

لفظ کے باعث پل میں کھونا پل میں پانا دیکھا ہے


اجمل صدیقی

No comments:

Post a Comment