Wednesday, 18 November 2020

رستے میں تو خطرات کی سن گن بھی بہت ہے

رستے میں تو خطرات کی سن گن بھی بہت ہے

منزل پہ پہنچنے کی ہمیں دھن بھی بہت ہے

ہر شہر میں تازہ ہے تو بس زخم تعصب

کچھ لذت ناحق کا تعاون بھی بہت ہے

کچھ ہاتھوں سے کچھ ماتوں سے کالک نہیں جاتی

ہر چند کہ بازار میں صابن بھی بہت ہے

وہ ہاتھ تحفظ کی علامت جسے کہیے

محسوس یہ ہوتا ہے وہی سن بھی بہت ہے

اک جسم کے مانند ہیں ہم لوگ کہیں ہوں

ٹھوکر سے اکھڑتا ہے تو ناخن بھی بہت ہے

ہم شعر کہا کرتے ہیں وجدان کے بل پر

کچھ لوگوں کو زعمِ فعلاتن بھی بہت ہے


رؤف خیر

No comments:

Post a Comment