Wednesday, 18 November 2020

یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکا

 یہ پیرہن جو مری روح کا اتر نہ سکا

تو نخ بہ نخ کہیں پیوست ریشۂ دل تھا

مجھے مآل سفر کا ملال کیوں کر ہو

کہ جب سفر ہی مرا فاصلوں کا دھوکا تھا

میں جب فراق کی راتوں میں اس کے ساتھ رہی

وہ پھر وصال کے لمحوں میں کیوں اکیلا تھا

وہ واسطے کی ترا درمیاں بھی کیوں آئے

خدا کے ساتھ مرا جسم کیوں نہ ہو تنہا

سراب ہوں میں تری پیاس کیا بجھاؤں گی

اس اشتیاق سے تشنہ زباں قریب نہ لا

سراب ہوں کہ بدن کی یہی شہادت ہے

ہر ایک عضو میں بہتا ہے ریت کا دریا

جو میرے لب پہ ہے شاید وہی صداقت ہے

جو میرے دل میں ہے اس حرف رائیگاں پہ نہ جا

جسے میں توڑ چکی ہوں وہ روشنی کا طلسم

شعاع نور ازل کے سوا کچھ اور نہ تھا


فہمیدہ ریاض

No comments:

Post a Comment