Wednesday, 18 November 2020

تجھ کو مجھ سے ہے کیا تیرا کھاتہ الگ میرا

تجھ کو مجھ سے ہے کیا


میں کہ دریا نہیں

میں کہ صحرا نہیں

میں نہ منزل، نہ رستہ نہ راہِ سفر

تجھ کو مجھ سے ہے کیا؟

میں بُتوں کی پرستش کی قائل نہیں

تجھ کو دعویٰ خدا کا ہے تو رہے

من کے کعبہ کو مندر بنانا نہیں

دل کے مسند کی قدریں گِرانا نہیں

لاکہ کافر کو اس میں بٹھانا نہیں

میں نہ مہر و وفا

میں نہ جانوں جفا

مجھ کو جو ہو سو ہو

تجھ کو مجھ سے ہے کیا؟

میں نہ ظالم کی صف میں، نہ مظلوم کی

میں نہ قاتل کی صف میں، نہ مقتول کی

میں کہ میری نہیں سمجھو تیری نہیں

مجھ کو اپنا نہیں ہے تو اوروں سے کیا؟

تجھ کو مجھ سے ہے کیا؟

میں نہ ماضی کے پنّوں پہ لکھا نشاں

نہ ہی کندھے پہ اب کے ہوں بارِ گِراں

نہ میں ٹہری ہوئی، نہ میں سیلِ رواں

نہ تو اپنے لیے چاہوں سارا جہاں

نہ میں تیرے لیے کوئی سود و زیاں

تیرا کھاتہ الگ میرا کھاتہ الگ

تجھ کو مجھ سے ہے کیا؟


زاہدہ رئیس راجی

No comments:

Post a Comment