Friday, 20 November 2020

شہر میں جسے دیکھو اجنبی سا لگتا ہے

 شہر میں جسے دیکھو، اجنبی سا لگتا ہے

سب کا ملنا جلنا بھی سرسری سا لگتا ہے

کس طرح نبھاؤں میں مستقل مزاجی سے

اب تو ہر تعلق ہی عارضی سا لگتا ہے

جس طرح اداسی نے دل میں ڈیرے ڈالے ہیں

اس کا یہ بسیرا اب دائمی سا لگتا ہے

جس تپاک سے ہمدم مل رہا ہے تو مجھ سے

اس دفعہ کا یہ ملنا آخری سا لگتا ہے؟

عشق میں کبھی لوگو وہ گھڑی بھی آتی ہے

جس گھڑی بچھڑ جانا لازمی سا لگتا ہے

جب امید کے سارے خواب ٹوٹ جائیں تو

موت کا تصور پھر زندگی سا لگتا ہے

ہے بھلا ضرورت کیا اس کو شعر گوئی کی

جو ذکی سراپا خود شاعری سا لگتا ہے


ذوالفقار ذکی

No comments:

Post a Comment