Tuesday, 6 December 2022

اس کے قریب تر جو ہو وہ در خرید لوں

اس کے قریب تر جو ہو، وہ در خرید لوں

سوچا ہے اس کے شہر میں اک گھر خرید لوں

بے کار ہی پڑا ہے یہ سینے کے وسط میں

بہتر ہے دل کو بیچ کے پتھر خرید لوں

تیرے سبھی خطوط میں ردی میں بیچ کر

دل ہے کہ آج بادہ و ساغر خرید لوں

شہرِ وفا میں بن سکے سودا جو پیار کا

اپنا وجود بیچ کے دلبر خرید لوں

پا لوں جو چشمِ یار کی خواہش تو میں ذکی

اس کو جو ہو پسند وہ منظر خرید لوں


ذوالفقار ذکی

No comments:

Post a Comment