اس کی دہلیز پہ یوں پھول پڑے رہتے ہیں
جیسے دربار میں نذرانے دھرے رہتے ہیں
میرے کمرے میں جو سِگرٹ کا دھواں اڑتا ہے
دیر تک اس میں تِرے نقش بنے رہتے ہیں
کون ہے جس نے یہاں قہر مچا رکھا ہے
کس لیے شہر کے یہ لوگ ڈرے رہتے ہیں
جن کے پہلو میں بنے قبر کسی عاشق کی
ان درختوں پہ سدا پھول کھلے رہتے ہیں
اک تِری یاد کے بھرپور سواگت کے لیے
دل کے دو باب، ہمہ وقت کھلے رہتے ہیں
اس لیے بھی میں تجھے یاد بہت کرتا ہوں
ایسا کرنے سے مِرے زخم ہرے رہتے ہیں
مجھ کو تحفے میں ملے ہیں یہ ذکی اپنوں سے
میری آنکھوں میں جو یہ اشک سجے رہتے ہیں
ذوالفقار ذکی
No comments:
Post a Comment