تمہارے شہر سے باہر کو جو اٹھائے قدم
تو راستے میں کئی بار لڑکھڑائے قدم
پھر ان پہ جا بجا ہی آبلے ابھرنے لگے
سُلگتی ریت پہ مجنوں نے جب ٹکائے قدم
مِرے ہی قہقہے سے آنکھ کُھل گئی میری
کسی نے خواب میں آ کر یوں گُدگدائے قدم
میں اپنی سوچ میں گُم تھا کہ اک پری رُخ نے
نکل کے جھیل سے میری طرف بڑھائے قدم
دمِ فراق وہ حالت ہوئی کہ مت پوچھو
اٹھانا چاہے میں نے جب تو اٹھ نہ پائے قدم
وفا کے جرم میں جو شہر سے نکالے گئے
تو سارے عاشقوں نے دشت میں جمائے قدم
ذکی!! وہ اجنبی کچھ ایسی چھاپ چھوڑ گیا
کہ دل میں پھر کسی دوجے کے ٹک نہ پائے قدم
ذوالفقار ذکی
No comments:
Post a Comment