Tuesday, 12 July 2022

اک نظم اپنے گاؤں کے نام

 اک نظم اپنے گاؤں کے نام


میری شاہزادی

یہاں کچی بستی میں آ کر تجھے جتنی حیرت ہوئی ہے

میں سب جانتا ہوں تُو حیران ہے ناں کہ 

میں زندگی کی چمک سے نکل کر 

یہ ایسے مکانوں میں کیوں آ بسا ہوں

میری شاہزادی

یہ وہ کچی بستی ہے میں نے

جہاں سارا بچپن گزارا

حویلی نُما یہ جو کچا سا گھر ہے یہی میرا گھر ہے

لسوڑے کے اس پیڑ کی ٹھنڈی چھاؤں میں 

اماں نے مجھ کو بہت لوریاں دیں

میں اماں کی جھولی سے اُترا تو گھر کی اسی بھوری مٹی نے

خود آگے بڑھ کر میرے پاؤں چومے

میں سکول جانے کے قابل ہُوا تو 

میری ماں نے ہاتھوں سے کپڑے کا بستہ بنا کر دیا تھا

اسی گھر کی دہلیز سے ایک دن 

مجھ کو رُخصت کیا تھا

میری شاہزادی یہ وہ گھر ہے میں نے جہاں 

زندگی کو غُبارے میں بھر کر ہوا میں اُڑایا

جہاں میرے مٹی کے سب گگھو گھوڑے 

ابھی تک پڑے ہیں

یہ میلے کچیلے بڑے بوڑھے میرے 

تجھے دیکھ کر جو سبھی اُٹھ پڑے ہیں

یہ وہ لوگ ہیں کہ 

جنہوں نے مجھے گودیوں میں کِھلایا

خود ان پڑھ تھے لیکن مجھے 

شہر کے کالجوں میں پڑھایا

مجھے ٹھیک سے جینے کا گُر سکھایا

میں ان کے سروں پہ رکھی میلی مالی سی 

ان پگڑیوں پہ زمانے کے سب شاہوں کے تاج واروں

میں اِن کے اِن اُدھڑے ہوئے میلے جوتوں پہ سب راج واروں

یہ برساتی نالہ کہ جس کا یہ مٹیالہ پانی 

میرے گاؤں کی ساری بنجر زمینوں کو 

سیراب کرتا ہوا جا رہا ہے

میرے بچپنے کا یہ ساتھی رہا ہے

یہ ٹیلے کے پیچھے تجھے دھوپ میں 

جو جُھلستی سی قبریں نظر آ رہی ہیں

یہاں میرے اجداد سب سو رہے ہیں

میری شاہزادی

یہ بنجر زمینیں، یہ اُجڑے مزارعے

یہ بھیڑوں کے ریوڑ، یہ جنگل، یہ کائی

اندھیرے میں ڈوبے ہوئے زرد چہرے

یہ میلے کچیلے سے معصوم بچے 

یہ سوکھی ہوئی چھاتیوں والی مائیں 

میری اپنی مائیں

میں کیسے انہیں چھوڑ کر دور جاؤں 

کہ میری رگوں میں انہی کی محبت 

میری آنکھ میں سارے آنسو انہی کے

میں ان کا یہ میرے یہ سب میرے اپنے

یہ بنجر زمینیں، یہ اُجڑے مزارعے 

یہ میلے کچیلے سے ادھ ننگے بچے 

یہ ٹیلہ، یہ قبریں، یہ برساتی نالہ

یہ جنگل، یہ کائی، یہ کچی سی بستی

میری شاہزادی یہ سب ایک سچ ہے

اے محلوں کی ملکہ! اے پھولوں کی رانی 

تِرے شہر کی رونقوں سے علاحدہ 

بہت دور ویرانے میں میری بستی

یہاں پینے کو صاف پانی نہیں ہے

یہاں سونے کو نرم بستر نہیں ہے

یہاں کافی پیزہ، نہ ہی سینڈوچ ہیں

یہ تیری محبت ہے جو شہر سے تُو یہاں 

ایسے ویرانے تک آ گئی ہے

مگر یہ محبت تو اپنی جگہ ہے

تُو واپس چلی جا

تُو واپس چلی جا کہ 

میں اک محبت کو پانے کی خاطر

ہزاروں دلوں کو نہیں روند سکتا

میری شاہزادی میرا مشورہ ہے کہ 

واپس چلی جا

کہ میرا پلٹنا تو ممکن نہیں ہے


میثم علی آغا

No comments:

Post a Comment