دنیا کی تیز نظروں سے چہرہ چھپا کے رکھ
اس پر سپاہِ زلفوں کا پہرہ بٹھا کے رکھ
دل ہے کہ رقص آج میں دیکھوں شراب کا
ساقی! تُو میرے جام کو تھوڑا ہلا کے رکھ
یا روز ملنے آ مجھے سج دھج کے خواب میں
یا پھر اے جانِ من مری نیندیں اڑا کے رکھ
مایوسیاں ہی لکھی ہیں جس کے نصیب میں
بہتر ہے اس تمنا کو دل میں دبا کے رکھ
پردے سبھی ہٹا کے وہ آئے ہیں رو برو
اس پر جناب کہتے ہیں نظریں جھکا کے رکھ
تیری طرف وہ تتلیاں آئیں گی خود بخود
آنگن میں اپنی چاہ کے غنچے کھلا کے رکھ
لوگوں سے اتنی دوستی اچھی نہیں ذکی
خود کو تُو اس زمانے سے تھوڑا بچا کے رکھ
ذوالفقار ذکی
No comments:
Post a Comment