جب میں خوش پوش جواں تھا تُو کہاں تھا
پاس اسباب دل و جاں تھا، تو کہاں تھا
اب تو پتھر بھی ہوئے دل کو زمانہ گزرا
جب یہ شیشے کا مکاں تھا، تو کہاں تھا
اب تو آدھا بھی ترے ہاتھ نہ آ پاؤں گا
جب میں سارا ہی وہاں تھا، تو کہاں تھا
دیکھتا تو بھی کبھی دوست زمانے میرے
جب مرے گرد جہاں تھا، تو کہاں تھا
غیر لوگوں کی بھی ہم نے تو پذیرائی کی
تُو تو ارباب دل و جاں تھا، تو کہاں تھا
اب تم آئے ہو بدن میں نہیں چنگاری بھی
جب یہ شعلہ تھا فشاں تھا تو کہاں تھا
یونہی بچپن سے مرے دوست جوانی کر دی
تُو یہاں تھا نہ وہاں تھا، تو کہاں تھا
شہر آباد تھا اے دوست ہمیشہ کی طر ح
ایک میں تھا کہ پریشاں تھا تو کہاں تھا
اختر ملک
No comments:
Post a Comment