Friday, 4 March 2022

مندر سے اک لاش ملی ہے

 مندر سے اک لاش ملی ہے

ماتھے پہ محراب کے اوپر تِلک لگا ہے

ہاتھ میں تسبیح، سر پہ پگڑی 

جیب سے بائبل جھانک رہی ہے

آس پڑوس کے لوگ سبھی انکاری ہیں

سوچ رہے ہیں دفنائیں؟

یا گنگا راکھ بہانی ہے؟

شاید رب کو ڈھونڈتا کوئی

مندر تک آ پہنچا تھا

گیتا یا قرآن کا مالک 

عیسٰی والا، نانک والا

 کوئی تو آئے لاوارث کی لاش اٹھائے

لاش جو تیرے راز کی طرح فاش ملی ہے

مندر سے اک لاش ملی ہے 


محسن عباس حیدر

No comments:

Post a Comment