Friday, 4 March 2022

شب فرقت کی تنہائی کا لمحہ

شبِ فُرقت کی تنہائی کا لمحہ

کئی راز نہانی کھولتا ہے

بہت دن سے وہ نا مانوس لہجہ

مِرے دشتِ انا میں گونجتا ہے

مِری پہچان رشتے میرا مقصد

سدا سرگوشیوں میں پوچھتا ہے

میں سرگرداں ہوں اس کی جستجو میں

وہ کہتا ہے کہ مجھ کو ڈھونڈتا ہے

ہے اس سے کھل کے ملنا اب ضروری

پسِ پردہ جو مجھ کو دیکھتا ہے


عفت عباس

No comments:

Post a Comment