Thursday, 11 May 2023

صدائے درد و الم ہی ابھری وہاں وہاں سے

 صدائے درد و الم ہی اُبھری وہاں وہاں سے

کتاب ہستی کو میں نے کھولا جہاں جہاں سے

وہ آدمی کے مقابلے میں ٹھہر نہ پائیں

زمیں پہ اُتریں بلائیں جتنی بھی آسماں سے

جب اُس کو ڈھونڈا نہیں ملا تو سمجھ میں آیا

وہ ماورأ ہے، مِرے یقیں سے مِرے گماں سے

میں رفتہ رفتہ تِِری کہانی پہ چھا رہا تھا

تو پھر مجھے کیوں ہٹا دیا تُو نے درمیاں سے

کسی کی آنکھوں سے آگہی کی شراب پی ہے

کہاں تلک میں بچوں گا آخر خمارِ جاں سے

ہر اک شجر سے سلوک اُس کا الگ رہا ہے

یہی شکایت، یہی تو شکوہ ہے باغباں سے

انہیں بھی آنکھوں سے بات کرنا اب آ گیا ہے

اسی لیے تو وہ بات کرتے نہیں زباں سے

ہماری بانہیں صدائیں دیتی رہیں گی، لیکن

وہ جانے والے نہ آسکیں گے کبھی وہاں سے


فیاض علی 

No comments:

Post a Comment