Thursday, 15 July 2021

جن سے غم انتہا کے ملتے ہیں

 جن سے غم انتہا کے ملتے ہیں

ان سے ہم مسکرا کے ملتے ہیں

وہ جو خود چل کے آ نہیں پاتے

ان سے ہم لوگ جا کے ملتے ہیں

اپنا پن اٹھ گیا ہے دنیا سے

لوگ دامن بچا کے ملتے ہیں

راہ روشن کے جو مسافر ہیں

سب سے وہ سر اٹھا کے ملتے ہیں

اہلِ دانش کی آستین میں بھی

دیکھیے بت انا کے ملتے ہیں

ان سے لذت کشید کرتی ہوں

دکھ جو غزلیں سنا کے ملتے ہیں


حنا علی

No comments:

Post a Comment