رسمِ الفت ادا کرے گا کون؟
با وفا سے وفا کرے گا کون؟
دردِ دل حد سے بڑھ گیا اب کے
دردِ دل کی دوا کرے گا کون؟
جس میں شامل نہ ہو ریا کاری
ایسا سجدہ ادا کرے گا کون؟
خود سے ملنے کی جستجو معدوم
آنکھ باطن کی وا کرے گا کون؟
کوئی رکھتا نہیں متاعِ کُل
وصل کے دل میں جا کرے گا کون؟
سانس لینا گِراں ہوا ہے یہاں
زندگی کی دُعا کرے گا کون؟
بے نیازی ہے اس کی خُو تو جمیل
جرأتِ التجا کرے گا کون؟
جمیل حیات
No comments:
Post a Comment