Thursday, 15 July 2021

خموش اس لیے ہم ہیں کہ بات گھر کی ہے

 خموش اس لیے ہم ہیں کہ بات گھر کی ہے

ابھی یہ دیکھ رہے ہیں ہوا کدھر کی ہے

بجھے چراغ تو احساس کرب جاگ اٹھا

نہ جانے کیسے پرندوں نے شب بسر کی ہے

ہمارے بچوں کے دل میں سلگ رہے ہیں الاؤ

یہ آگ بجھ نہیں پائے گی عمر بھر کی ہے

نہا اٹھیں گے ابھی لوگ بے سبب خوں میں

یہ جنگ صرف ہمارے ہی ایک سر کی ہے

نہ تم کہو گے تو خنجر پکار اٹھے گا

لہو میں کس کے یہ پھر آستین تر کی ہے

برہنہ کانٹوں پہ بستر بچھا دیا میں نے

تو بھول جا کہ مِری آرزو سفر کی ہے

پناہ دھوپ سے احسن جو دے سکے سب کو

ضرورت آج یہاں ایسے اک شجر کی ہے


نواب احسن

No comments:

Post a Comment