مڑ کے تکتے ہیں کہاں چھوڑ کے جانے والے
لاکھ دیں ان کو صدا ان کو بلانے والے
گردِ راہ جن کے مقدر میں لکھی ہوتی ہے
وہ ٹھکانوں پہ نہیں لوٹ کے آنے والے
کیسے ہوتا ہے بپا حشر بتاتے ہیں تجھے
جب ہوں محبوب کے تیور بھی زمانے والے
چاند تنہا تھا فلک پہ تو میں اس کے ہمراہ
ڈھونڈنے نکلی شب و روز پرانے ضوالے
شاہانہ ناز
No comments:
Post a Comment