Thursday, 10 June 2021

مڑ کے تکتے ہیں کہاں چھوڑ کے جانے والے

 مڑ کے تکتے ہیں کہاں چھوڑ کے جانے والے

لاکھ دیں ان کو صدا ان کو بلانے والے

گردِ راہ جن کے مقدر میں لکھی ہوتی ہے

وہ ٹھکانوں پہ نہیں لوٹ کے آنے والے

کیسے ہوتا ہے بپا حشر بتاتے ہیں تجھے

جب ہوں محبوب کے تیور بھی زمانے والے

چاند تنہا تھا فلک پہ تو میں اس کے ہمراہ

ڈھونڈنے نکلی شب و روز پرانے ضوالے


شاہانہ ناز

No comments:

Post a Comment